روٹی اور تماشہ: قدیم روم کی وہ خاموش سازش جو آج بھی زندہ ہے
روٹی اور تماشہ: جب ریاست نے بھوک کو خاموشی میں بدل دیا!
روم کی فضاؤں میں آٹے کی خوشبو نہیں، بلکہ ایک عجیب سی گھٹن پھیلی ہوئی تھی۔ لوسیئس، نانبائی کا بیٹا، دکان کی چوکھٹ پر بیٹھا ان چہروں کو دیکھ رہا تھا جن کی آنکھوں میں امید کی آخری رمق بھی دم توڑ چکی تھی۔ اس نے دیکھا کہ کیسے اس کا باپ، جس کے ہاتھ آٹے سے سفید تھے، خاموشی سے روٹی کے ٹکڑے ان لوگوں کی طرف بڑھا رہا تھا جن کے پاس پیسے نہیں، صرف سوال تھے۔
"بابا، اگر ان کے پاس کچھ نہیں، تو یہ زندہ کیسے ہیں؟" لوسیئس کے اس معصوم سوال پر نانبائی کے ہاتھ رک گئے۔ اس نے اپنے بیٹے کی آنکھوں میں دیکھا، جہاں تجسس کی ایک آگ جل رہی تھی۔ "بیٹا، ریاست انہیں مرنے نہیں دیتی،" اس نے دھیمی آواز میں کہا، "تاکہ یہ بغاوت نہ کر سکیں۔ یہ روٹی نہیں، ان کی زبانوں پر لگی وہ مہر ہے جو انہیں سچ بولنے سے روکتی ہے۔"
منظر بدلا۔ اگلے ہی ہفتے شہر کی دیواروں پر اشتہار لگ گئے۔ تماشے کا اعلان ہوا! وہی لوگ جو کل بھوک سے بلک رہے تھے، آج میدان کی طرف بھاگ رہے تھے۔ لوسیئس نے دیکھا کہ خون آلود ریت پر جب گلیڈی ایٹرز کی تلواریں ٹکراتی تھیں، تو ہجوم پاگل ہو جاتا تھا۔ وہ آدمی جو کل اپنے بچوں کے لیے رو رہا تھا، آج کسی کی موت پر تالیاں بجا رہا تھا۔ اس کے ہاتھ میں روٹی تھی اور آنکھوں میں وہ وحشیانہ جوش، جس نے اسے اپنی غربت بھلا دی تھی۔
آج کا روم: اسمارٹ فون اور اسکرین کا جادو
کیا آپ کو نہیں لگتا کہ ہم آج بھی اسی رومی میدان میں بیٹھے ہیں؟ آج روٹی کی جگہ سستے انٹرنیٹ پیکجز نے لے لی ہے اور تماشے کی جگہ سوشل میڈیا کے لامتناہی اسکرولنگ (Scrolling) نے۔ جب بھی معاشرے میں کوئی بڑا سوال اٹھنے لگتا ہے، کوئی نیا ڈیجیٹل تماشہ سامنے آ جاتا ہے۔ ہم دوسروں کی زندگیوں کے فلٹرز دیکھنے میں اتنے مصروف کر دیے گئے ہیں کہ ہمیں اپنی زندگی کی بدحالی نظر ہی نہیں آتی۔
ریاست آج بھی ہمیں اتنا ہی زندہ رکھتی ہے کہ ہم ان کی مشین کا حصہ بنے رہیں۔ یہ ایک ایسی ذہنی غلامی ہے جہاں زنجیریں نظر نہیں آتیں، لیکن وہ ہمارے شعور کو جکڑے ہوئے ہیں۔ اس جال سے نکلنے کا واحد راستہ اپنے کامیابی کا سفر خود طے کرنا ہے، نہ کہ دوسروں کے تماشوں پر تالیاں بجانا۔
لوسیئس اس رات دیر تک جاگتا رہا۔ اسے سمجھ آ گیا تھا کہ پیٹ کا بھرا ہونا اور دماغ کا مصروف ہونا، انسان کو حقیقت سے کتنا دور کر دیتا ہے۔ جب ہم
الحمدللہ ہر حال میں کہتے ہیں، تو ہم اس سکون کو پا لیتے ہیں جو کسی بیرونی تماشے کا محتاج نہیں ہوتا۔ ہمیں اپنے
ذہن اور جسم کے تعلق کو دوبارہ دریافت کرنا ہوگا تاکہ ہم تماشائی نہیں، بلکہ اپنی زندگی کے خود مختار کھلاڑی بن سکیں۔
کیا آپ جاگ رہے ہیں؟
اگر آپ کو یہ تحریر پسند آئی اور آپ تماشوں کی دنیا سے نکل کر شعور کی طرف قدم بڑھانا چاہتے ہیں، تو ہمارے ساتھ جڑیں!
ہمارے ساتھ سفر شروع کریں!
#AncientRome #DigitalSlavery #SocialMediaTrap #UrduStory #BreadAndCircuses #Awakening #ModernWorld #DrAsifKhan
