مثبت خود کلامی اور شفا: کیا آپ کے الفاظ آپ کا جسم بدل سکتے ہیں؟
ہمارا جسم محض ہڈیوں اور گوشت کا ڈھیر نہیں، بلکہ یہ ایک انتہائی حساس انٹینا ہے جو ہمارے ہر خیال کو "سگنل" کے طور پر وصول کرتا ہے۔ جب آپ خود سے کہتے ہیں کہ "میں بہتر ہو رہا ہوں"، تو آپ کا دماغ اسے مذاق نہیں سمجھتا، بلکہ فوراً آپ کے خلیوں کو مرمت کا حکم جاری کر دیتا ہے۔
دماغ کی جادوئی کیمسٹری: ڈوپامین اور سیروٹونن
مثبت الفاظ بولتے ہی دماغ میں ڈوپامین اور سیروٹونن جیسے کیمیکلز کا سیلاب آ جاتا ہے۔ یہ نہ صرف آپ کا موڈ خوشگوار بناتے ہیں بلکہ جسم میں سوزش (Inflammation) کو کم کر کے مدافعت کو فولادی بنا دیتے ہیں۔ اس کے برعکس، منفی سوچ کورٹیسول (اسٹریس ہارمون) بڑھاتی ہے جو خاموشی سے آپ کو کمزور کرتا ہے۔ اگر آپ آج کل ذہنی تھکاوٹ کا شکار ہیں، تو جانیں کہ برن آؤٹ جنریشن (Burnout Generation) کیسے اس کی لپیٹ میں آ رہی ہے۔
کیا خلیے ہماری باتیں سنتے ہیں؟
سائنس کہتی ہے کہ جب ہم کسی عضو پر توجہ دیتے ہیں، تو وہاں خون کی روانی اور آکسیجن کی سپلائی بڑھ جاتی ہے۔ یہ "خیال سے شفا" تک کا ایک قدرتی سفر ہے۔ جہاں مہنگی دوائیاں اور سپلیمنٹس کام چھوڑ دیتے ہیں، وہاں آپ کے الفاظ اور نیت کام آتی ہے۔ قدرتی اجزاء جیسے تل کے بیج (Sesame Seeds) جسم کو توانائی دیتے ہیں، لیکن ان کا اثر بھی تبھی دوگنا ہوتا ہے جب آپ کا دماغ پرسکون ہو۔
نتیجہ: گولی نہیں، اب شعور سے علاج ہوگا
آئندہ جب بھی آپ آئینہ دیکھیں، اپنے جسم کو تنقید کا نشانہ بنانے کے بجائے اس کا شکریہ ادا کریں۔ اسے بتائیں کہ وہ مضبوط ہے۔ یہ کوئی جادو نہیں، بلکہ آپ کے اعصابی نظام کا وہ قدرتی فنکشن ہے جو آپ کو مفت میں میسر ہے۔ خود آگاہی ہی اصل شفا ہے۔
مزید صحت بخش معلومات اور اس سفر میں شامل ہونے کے لیے:
ہمارا بلاگ جوائن کریں - Dr. Asif Khan