کیا آپ نیند پوری ہونے کے باوجود تھکاوٹ محسوس کرتے ہیں؟ جانیں نوجوان نسل میں بڑھتی ذہنی تھکن، Cognitive Overload، جذباتی دباؤ اور Burnout Generation کے اصل اسباب
سائنس اور نفسیات کی روشنی میں مکمل تجزیہ۔
کیا کبھی آپ نے، پوری رات سونے کے باوجود، صبح اٹھتے ہی یہ سوچا ہے کہ
“یار! میں اتنا تھکا ہوا کیوں ہوں؟ آخر مسئلہ کیا ہے؟”
اتوار کی چھٹی بھی گزر جاتی ہے، مگر ذہن کا بوجھ ہلکا نہیں ہوتا…
جسم تو زندہ ہے، مگر اندر کچھ آہستہ آہستہ مر رہا محسوس ہوتا ہے۔
اگر آپ بھی یہ سب محسوس کرتے ہیں—
تو آپ اکیلے نہیں۔
آپ اس دور کی اُس نسل کا حصہ ہیں جسے ماہرین "Burnout Generation" کہتے ہیں۔
1️⃣ نوجوان کیوں ٹوٹ رہے ہیں؟ — Cognitive Overload کا راز
ہمارے والدین دن بھر کھیتوں میں کام کرتے، مشقت اٹھاتے، مگر رات کو سکون سے سو جاتے تھے۔
ان کے چہرے پر وہ ویرانی نہیں ہوتی تھی جو آج 20–30 سال کے نوجوانوں پر دکھائی دیتی ہے۔
وجہ صرف ایک ہے:
ہم جسم سے نہیں—دماغ سے تھک رہے ہیں۔
دماغ آج ایک موبائل فون کی RAM کی طرح ہے:
-
ایک طرف WhatsApp
-
دوسری طرف Career کا پریشر
-
سوشل میڈیا پر Comparison
-
ملک کی سیاسی خبریں
-
مہنگائی کا خوف
-
تعلقات کی پیچیدگیاں
ہر چیز ایک ساتھ دماغ پر لوڈ ڈال رہی ہے۔
اسے نیوروسائنس میں Cognitive Overload کہتے ہیں—
دماغ 24 گھنٹے پروسیسنگ میں مصروف رہتا ہے۔
حتیٰ کہ نیند کے دوران بھی وہ "اسٹینڈ بائی" پر نہیں جاتا۔
اسی لیے صبح اٹھ کر بھی تھکن باقی رہتی ہے۔
کیونکہ آپ کے جسم نے نہیں، آپ کی روح نے آرام نہیں کیا ہوتا۔
2️⃣ جذباتی تھکن اور Compassion Fatigue: پوری دنیا کا درد ایک موبائل اسکرین میں
ہم پہلی نسل ہیں جو پوری دنیا کا دکھ اپنے کمرے میں بیٹھ کر سہتی ہے۔
جنگ، تشدد، ظلم، مہنگائی، سیاسی انتشار—
ہر صدمہ براہ راست دماغ پر ضرب لگاتا ہے۔
نتیجہ:
✔ Emotional Numbness (جذباتی بے حسی)
✔ خوشی کا عارضی ہونا
✔ ذہنی وزن کا بڑھ جانا
اندر ایک خلا پیدا ہو جاتا ہے…
جو چھٹیوں اور نیند سے بھی پورا نہیں ہوتا۔

