کیا آپ نے کبھی سفر پر نکلنے سے پہلے اپنے جوتے کی تلاشی لی ہے؟
شاید یہ سوال آپ کو عجیب لگے، لیکن یقین مانیے، آپ کی زندگی کی کامیابی اور ناکامی کا راز اسی ایک سوال میں پوشیدہ ہے۔ ہم سب زندگی کے بلند و بالا پہاڑ سر کرنے نکلے ہیں۔ ہماری نظریں آسمان کی وسعتوں اور چوٹی کی بلندیوں پر ہیں، ہم اپنی
منزل کو فتح کرنا چاہتے ہیں، لیکن اکثر ہم راستے میں ہی ہمت ہار کر بیٹھ جاتے ہیں۔
آخر کیوں؟ کیا پہاڑ بہت اونچا تھا؟ کیا منزل ناممکن تھی؟ جی نہیں!
دنیا کے عظیم ترین باکسر کا ایک بہت مشہور قول ہے:
"تمہیں تمہارے سامنے موجود پہاڑ کی بلندی نہیں تھکاتی، بلکہ وہ چھوٹا سا کنکر تھکاتا ہے جو تمہارے جوتے کے اندر چبھ رہا ہوتا ہے۔"
قیمتی جوتے اور چبھتا ہوا کنکر
ذرا تصور کیجیے، آپ نے لاکھوں روپے کے بہترین اور قیمتی جوتے پہن رکھے ہیں، آپ کے پاس تمام وسائل موجود ہیں، لیکن جوتے کے اندر ایک معمولی سا، ننھا سا کنکر موجود ہے۔ کیا آپ بھاگ سکیں گے؟ کیا آپ سکون سے چل بھی سکیں گے؟ ہرگز نہیں۔
یہ کنکریاں دراصل ہماری زندگی کی تلخ حقیقتیں ہیں۔ یہ وہ چھوٹے چھوٹے مسائل، منفی سوچیں، وسوسے اور الجھنیں ہیں جو بظاہر معمولی لگتی ہیں لیکن یہ ہمارے خوابوں کو چوری کر لیتی ہیں۔ یہ ہمارا ذہنی سکون لوٹ لیتی ہیں اور ہمیں منزل پر پہنچنے کی بجائے، راستے کی تکلیف سے نجات پانے کی فکر میں مبتلا کر دیتی ہیں۔ ہم تھکن سے چور ہو جاتے ہیں اور پاؤں کے چھالے ہمیں روک دیتے ہیں۔
آپ کے جوتے میں کون سا کنکر ہے؟ (نفسیاتی حقائق)
ہماری زندگی کے سفر میں یہ کنکر اکثر جسمانی نہیں بلکہ نفسیاتی اور جذباتی ہوتے ہیں۔
ذہنی دباؤ اور کھنچاؤ
بے چینی اور اضطراب
حسد اور جلن
ماضی کا پچھتاوا اور ملال
نامعلوم خوف اور ڈر
یہ وہ بیمار رویے ہیں جو ہماری رفتار کو سست کر دیتے ہیں۔ کبھی کبھی ہمارے اپنے ہی رشتے داروں یا دوستوں کے زہریلے رویے وہ کنکر بن جاتے ہیں جو ہمیں آگے بڑھنے نہیں دیتے۔
جذبات کی عمر: ایک حیران کن حقیقت
ماہرینِ نفسیات نے انسانی جذبات کے دورانیے کے بارے میں ایسے انکشافات کیے ہیں جو آنکھیں کھول دینے والے ہیں۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ اداسی اور افسردگی انسان پر سب سے زیادہ اثر انداز ہوتی ہے؟
😢 اداسی: اس کا پہرہ سب سے طویل ہوتا ہے، یہ خوشی کے مقابلے میں 240 گنا زیادہ دیر تک (تقریباً 120 گھنٹے) دل پر بوجھ بنی رہتی ہے۔
😡 نفرت: یہ جذبہ 60 گھنٹے تک انسان کو اپنے حصار میں قید رکھتا ہے۔
😳 شرمندگی: یہ صرف 30 منٹ میں ختم ہو جاتی ہے، مگر ہم اسے برسوں ڈھوتے ہیں۔
😊 خوشی: بدقسمتی سے یہ صرف 35 گھنٹے تک برقرار رہتی ہے۔
😌 سکون: یہ محض 3 سے 4 گھنٹے میں رخصت ہو جاتا ہے۔
یہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ہم کیوں اتنی جلدی تھک جاتے ہیں۔ اداسی، نفرت اور رنجش جیسے "بھاری کنکر" ہمارے جوتوں میں زیادہ دیر تک رہتے ہیں اور ہمیں چلنے نہیں دیتے۔
حل کیا ہے؟ (کامیابی کا راز)
منزل کے راستے میں کنکر تو آئیں گے۔ آپ انہیں روک نہیں سکتے، لیکن آپ انہیں نکال ضرور سکتے ہیں۔ آپ کے پاس دو راستے ہیں:
تکلیف سہتے رہیں، پاؤں میں چھالے ڈالیں، روتے رہیں اور سفر ادھورا چھوڑ دیں۔
یا پھر چند لمحے رک جائیں۔
جی ہاں! رکنا ناکامی نہیں، حکمت ہے۔ جوتے اتاریں، انہیں زور سے جھاڑیں، گہری سانس لیں، مراقبہ کریں یا اپنے رب سے دعا مانگ لیں۔ اپنے اندر کا غبار نکالیں، معاف کر دیں اور پھر سے جوتے پہن کر سفر شروع کریں۔ یاد رکھیں، یہ آخری کنکر نہیں ہوگا، لیکن اب آپ جانتے ہیں کہ اسے نکالنا کیسے ہے۔
آج کا لائحہ عمل
آج اپنی زندگی کی بھاگ دوڑ میں صرف دو منٹ کے لیے رک جائیں۔ آنکھیں بند کریں اور خود سے پوچھیں: "میں اپنے ساتھ کون سا بوجھ (کنکر) لیے پھر رہا ہوں؟" کیا یہ کسی کی کہی ہوئی بری بات ہے؟ مستقبل کا خوف ہے؟ یا کسی کی کامیابی پر حسد؟
اس کنکر کو پہچانیں اور اسے باہر پھینک دیں۔ یاد رکھیں، یا آپ جیتیں گے یا کنکر جیتے گا! فیصلہ آپ کا ہے۔ جوتے جھاڑ لیں، سفر آسان ہو جائے گا اور منزل آپ کے قدم چومے گی۔
Zindagi ki haqeeqat, Kamiyabi ka raaz, Motivation in Urdu, Nafsiyati masail, Depression ka ilaj, Zehni sukoon, Khushi ki talash, Rishton ki ahmiyat, Sabr aur Shukar, Manzil ki janib, Self-improvement tips, Positive soch, Tension free life, Emotional intelligence, Muhammad Ali quotes, Dukh aur takleef, Himmat mat harna, Safar e Zindagi, Inspirational story
