ہسپتال کے اس چھوٹے سے کمرے میں ایک عجیب سی گھٹن محسوس ہو رہی تھی۔ سامنے کرسیوں پر ایک ساس، سسر اور ایک نوجوان شوہر بیٹھے تھے، جن کی آنکھوں میں کسی خوشخبری کی تڑپ سے زیادہ ایک جاہلانہ "ضد" کی جھلک تھی۔ وہی ضد جو ہمارے معاشرے میں ایک ناسور بن کر نسل در نسل منتقل ہوتی چلی آ رہی ہے، یعنی صرف "بیٹے کی خواہش"۔ ساس نے بڑی رازداری سے اپنی کرسی ڈاکٹر کے قریب کی اور سرگوشی میں کہا، "ڈاکٹر صاحب! کوئی ایسی دوا دے دیں کہ اس بار میری بہو کے ہاں بیٹا ہی ہو۔ دو بیٹیاں پہلے ہی بوجھ بنی بیٹھی ہیں، اب تو گھر کا وارث ہونا چاہیے!"
ڈاکٹر نے ہاتھ میں موجود قلم میز پر رکھا اور بڑی سنجیدگی سے ان کے چہروں کی طرف دیکھا۔ ان کے ذہنوں میں چلنے والی کشمکش کو محسوس کرتے ہوئے ڈاکٹر نے جواب دیا، "محترمہ! میڈیکل سائنس میں ایسی کوئی دوا نہیں بنی جو خدا کے فیصلے بدل سکے۔" یہ سنتے ہی لڑکی کا سسر بے چینی سے بولا، "لیکن ڈاکٹر صاحب! لوگ تو کہتے ہیں کہ فلاں لیڈی ڈاکٹر گارنٹی دیتی ہے..." ڈاکٹر نے بات کاٹتے ہوئے کہا کہ وہ ڈاکٹر نہیں بلکہ شکاری ہیں جو آپ کی مجبوری کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اس وقت ڈاکٹر کو شدت سے احساس ہوا کہ انسانی ذہن اور جسم کا آپس میں کتنا گہرا تعلق ہے، جس کی تفصیلات آپ
ذہن اور جسم کے تعلق کے ان رازوں میں جان سکتے ہیں جو ہماری سوچ کو متاثر کرتے ہیں۔
جب نوجوان شوہر نے گھبرائے ہوئے لہجے میں پوچھا کہ "کیا بیٹا نہ ہونے سے ہماری نسل ختم ہو جائے گی؟" تو ڈاکٹر نے ایک ایسی مثال دی جس نے پورے کمرے میں خاموشی طاری کر دی۔ ڈاکٹر نے پوچھا، "ساہیوال کی خاص گائے یا بولنے والے طوطوں کی نایاب قسم اگر ختم ہونے لگے تو فکر ہوتی ہے کہ یہ نسل بچانی چاہیے۔ لیکن آپ تو ایک عام انسان ہیں، آپ کے خون میں ایسے کون سے ہیرے جواہرات ہیں کہ اگر بیٹا نہ ہوا تو کائنات کا بڑا نقصان ہو جائے گا؟" ڈاکٹر نے مزید کہا کہ بچوں کی تربیت اہم ہے، بالکل ویسے ہی جیسے
جاپانی لوگ اپنے بچوں کو خود مختار بناتے ہیں، چاہے وہ بیٹا ہو یا بیٹی۔
سسر نے جذباتی ہو کر کہا، "ڈاکٹر صاحب! کوئی نام لیوا بھی تو ہونا چاہیے!" اس پر ڈاکٹر نے مسکرا کر ایک ایسا سوال داغا جس کا جواب سسر کے پاس نہیں تھا۔ "آپ کے پردادا کا نام کیا تھا؟" سسر ہکلا گئے، سوچ کے گھوڑے دوڑائے مگر جواب ندارد۔ ڈاکٹر نے ٹھنڈی آہ بھرتے ہوئے کہا، "دیکھیے! آپ کو اپنے پردادا کا نام تک یاد نہیں، حالانکہ وہ بھی اسی فکر میں جیے ہوں گے کہ میرا نام کون زندہ رکھے گا۔ آج ان کی اپنی اولاد ان کا نام تک نہیں جانتی۔" یہ حقیقت ہے کہ انسان کو اس کا کردار زندہ رکھتا ہے، نہ کہ صرف اس کی اولاد۔
ڈاکٹر نے سمجھایا کہ سر گنگا رام کو ان کے ہسپتال کی وجہ سے، ایدھی صاحب کو ان کی انسانیت کی وجہ سے، اور علامہ اقبال کو ان کے کلام کی وجہ سے یاد کیا جاتا ہے۔ سب سے بڑھ کر ہمارے نبیِ کریم ﷺ کی مثال دیکھیں، اللہ نے آپ ﷺ کی نسل کو بیٹی سیدہ فاطمہ الزہرا سلام اللہ علیہا کے ذریعے پوری کائنات میں پھیلا دیا۔ کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ آپ ﷺ کی نسل نہیں چلی؟ اس لیے اولاد کی نعمت پر ہمیشہ
الحمدللہ کہنا سیکھیں، کیونکہ ہر حال میں شکر گزاری ہی سکون کا راستہ ہے۔
ڈاکٹر نے بات ختم کرتے ہوئے کہا کہ بیٹی ہو یا بیٹا، دونوں اللہ کی تخلیق ہیں۔ بیٹا اللہ کی نعمت ہے تو بیٹی اللہ کی رحمت۔ یاد رکھیں، اولاد کا نیک ہونا ضروری ہے، اس کا "مرد" ہونا نہیں۔ جیسے جسمانی علامات، مثلاً
پاؤں کی سوجن دل کی حالت بتاتی ہے، ویسے ہی آپ کا رویہ آپ کی سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ اپنی سوچ بدلیں تاکہ آپ کی نسل میں انسانیت زندہ رہ سکے، جس کی مزید رہنمائی آپ کو
آپ کی صحت کے اس پلیٹ فارم پر مل سکتی ہے۔
"نسلیں بیٹوں سے نہیں، بلکہ نیک اعمال، اعلیٰ کردار اور انسانیت کی بے لوث خدمت سے چلتی ہیں۔ جس دن ہم نے بیٹی کو بوجھ کی بجائے رحمت سمجھ لیا، اسی دن ہمارا معاشرہ حقیقی معنوں میں ترقی کرے گا۔"
