ظالم اُستاد کا غصہ

 



یہ کوئی معمولی شام نہ تھی۔ یہ وہ شام تھی جب دن بھر کی تھکن جسم سے نہیں، روح سے ٹپک رہی تھی۔ جب میں دفتر سے نکلا، تو کندھوں پر بوجھ تھا اور قدموں میں ایک میکانکی رفتار، جس کا رخ سیدھا گھر کی طرف تھا۔

جیسے ہی میں دروازے پر پہنچا، وہیں میری چھوٹی سی دنیا، میرا جگر گوشہ، ہچکیوں کے درمیان لپٹی رو رہی تھی۔ میری رگوں میں دوڑتا خون ایک لمحے کو ٹھہر سا گیا۔ ساری تھکن بھول کر میں نے گھبرا کر اُسے اپنے سینے سے لگایا اور باپ کی بے چینی میں پوچھا، ”کیا ہوا بیٹا؟ کس نے رلایا میرے بچے کو؟“

اُس نے ننھے ہاتھوں سے آنسو پونچھے، اُس کی آواز خوف اور درد میں گُھلی ہوئی تھی: ”ابو... استانی نے تھپڑ مارا... استانی نے مارا مجھے۔“

یہ جملہ نہیں تھا، یہ میرے دل پر لگی ایک ٹھوکر تھی۔ ایک باپ کا غصہ آسمان سے اتری بجلی کی طرح میرے وجود میں پھیل گیا۔ میرے ہاتھ خود بخود مٹھیوں کی شکل میں بند ہو گئے۔ غصے کی تپش نے اندر ہی اندر جیسے لاوا بھرا، اور میرا ذہن ایک ہی بات دُہرا رہا تھا: ”استانی نے تھپڑ مارا! استانی نے تھپڑ مارا!“ وہ رات کروٹوں میں کٹی۔ ہر کروٹ پر صرف تذکرہ تھا۔ اُس چہرے کا تصور تھا جس نے میرے معصوم پھول پر ہاتھ اٹھایا تھا۔ دل چیخ رہا تھا کہ اتنی جرات کیسے ہوئی؟ اسکول استاد کے لیے تربیت کا گھر ہے یا تشدد کی جگہ؟ میں نے قسم کھا لی تھی کہ صبح کی پہلی کرن کے ساتھ یہ ظلم یونہی نہیں گزر جائے گا۔


اگلی صبح، غصے اور بے چینی کے ساتھ میں نے موٹر سائیکل کو کِک لگائی اور سیدھا سکول کا راستہ لیا۔ راستے بھر میرے اندر سوالوں کا طوفان تھا: ”یہ کون سا استاد ہے جسے ایک چھوٹی بچی کی معصومیت کا بھی احساس نہیں؟ کیا وہ نہیں جانتے کہ بچوں پر تشدد اُن کے ذہن پر کیا زخم چھوڑتا ہے؟“

سکول پہنچ کر میرا دُھندلایا ہوا غصہ ابھی بھی تیز تھا۔ میں نے گیٹ پر موجود ایک طالب علم سے رُوکھی آواز میں پوچھا، ”پہلی کلاس کہاں ہے؟“ اُس بچے نے بے پروائی سے شور کی سمت اشارہ کیا، ”ادھر، جہاں سب سے زیادہ ہنگامہ ہو رہا ہے!

میں دروازے کے قریب پہنچا اور اندر جھانکا۔ ایک لمحہ... صرف ایک لمحہ، اور میرے اندر اُبلتا ہوا سارا غصہ یک دم ٹھنڈا ہو کر پگھل گیا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب غصہ نہیں، دل بولنا شروع ہوا۔

پورے ستر بچوں کا ہجوم تھا، اور بیچ میں وہ ایک خاتون۔ ناتواں، کمزور سی شخصیت۔ آواز دھیمی تھی مگر آنکھوں میں راتوں کی جاگ اور بے پناہ تھکن کا سمندر تھا۔ کمرہ کسی مچھلی بازار کا منظر پیش کر رہا تھا۔ کوئی بنچ پر چڑھا تھا، کوئی زمین پر گانا گا رہا تھا، کوئی شرارت میں ساتھی کی چوٹی کھینچ رہا تھا۔

استانی، ایک ہاتھ میں چاک لیے بورڈ پر کچھ لکھنے کی کوشش کر رہی تھیں اور دوسرا ہاتھ ہوا میں بار بار اُٹھتا، جو صرف بچوں کو چپ کرانے کی ایک لاحاصل کوشش تھی۔ ”بیٹا، اپنی جگہ بیٹھو! اُس کی چٹیا مت کھینچو! چپ ہو جاؤ... ایک منٹ کے لیے تو سنو!؟“ ان کے ہر لفظ سے تھکن اور بے بسی کی آری چل رہی تھی۔

میں نے انہیں غور سے دیکھا: ماتھے پر پسینے کے موتی، وقت سے پہلے پڑی جُھریاں، اور وہ گہری، تھکی ہوئی آنکھیں۔ یہ غصے کی تصویر نہیں، یہ بے انتہا صبر اور انتھک محنت کی مجسم شکل تھی۔

میری بیٹی وہیں، کونے میں سر جھکائے بیٹھی تھی۔ میں نے اُسے دیکھا، پھر استانی کو دیکھا، اور میرا گلا رُندھ گیا۔ میرے پاس اب کوئی الفاظ نہیں بچے تھے۔ وہ مکے جو کل رات غصے سے بندھے تھے، اب بے بسی سے کُھل گئے تھے۔ میں یہاں پوچھنے آیا تھا کہ 'تمہاری جرات کیسے ہوئی؟' مگر اب میں جانتا تھا کہ سوال اُس ایک تھپڑ کا نہیں، سوال اُس بے بس استاد کی مشقت کا ہے، جو تنہا ستر مستقبلوں کو سنوارنے کی جنگ لڑ رہی ہے۔

میں چپ چاپ دروازے سے ہٹ گیا، ایک لفظ بولے بغیر۔ میرا دل اب غصے سے نہیں، شرمندگی اور ایک انجانی سے احترام سے بھرا ہوا تھا۔

"11th class result bise lahore"    wish you all the best 

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !