آج کی نسل: صحت مند اعضاء کے ساتھ ایک ’معذور نسل‘ کیوں؟

ہمارا معاشرہ محبت اور قربانی کے ایک ایسے سلگ تے ہوئے سچ کی زد میں ہے جس کا ہر گھر مشاہدہ کر رہا ہے۔ کیا آپ نے کبھی اس بات پر غور کیا ہے کہ صحت مند، جواں سال بیٹے اور بیٹیاں گھروں میں ’خصوصی افراد‘ کی طرح کیوں رہتے ہیں؟ یہ کہانی صرف آرام کی نہیں، یہ ’ذمہ داری سے فرار‘ کی ہے۔ آپ نے انہیں ہر کام سے آزاد کر دیا: بستر سنوارنا، کپڑے اٹھانا، دھو کر استری کرنا— سب ماں کا فرض ہے۔ باورچی خانے سے لے کر دسترخوان تک، ان کا کام صرف نوالہ اٹھانا ہے۔ گھر کی چھوٹی موٹی ذمہ داری ہو یا کوئی مرمت کا کام، یہ ’موبائل کی سکرین‘ میں مگن رہتے ہیں، کیونکہ ان کے نزدیک ’فوری کمنٹ‘ دنیا کے سب سے اہم کام سے زیادہ ضروری ہے۔ گھر میں گند مچا کر اٹھ جانا، کھانا پسند نہ آنے پر ناراض ہونا، اور ہر معاملے میں خود کو مہمان سمجھنا—بدقسمتی سے، یہ اس ’معذور نسل‘ کی واضح نشانیاں ہیں جسے ہم پیار سے پروان چڑھا رہے ہیں۔ سچ کڑوا ہے: تمام اعضاء سلامت ہونے کے باوجود ہم ایک ایسی نسل کو مضبوط کر رہے ہیں جو ’دوسروں پر مکمل بھروسہ‘ کرنا جانتی ہے۔ آپ کے لاڈ اور قربانی نے ان کی شخصیت کو مضبوط کرنے کے بجائے انہیں زندگی کے چیلنجز کا سامنا کرنے سے ’معذور‘ بنا دیا ہے۔ اے پیارے والدین! اس محبت کے نتائج تباہ کن ہو سکتے ہیں۔ اپنی اولاد کو گھر میں ’مہمان‘ نہیں، بلکہ ذمہ دار شہری بنائیں۔ انہیں چھوٹی ذمہ داریاں دیں، ان کی شخصیت کو مضبوط کریں۔ زندگی کا سکول بے رحم ہوتا ہے، اور اگر آپ نے انہیں گھر میں ذمہ داری کا بوجھ اٹھانا نہ سکھایا تو باہر کی دنیا ان کے لیے بد سے بدتر ہو گی۔ آئیے، آج عہد کریں کہ ہم اپنی اولاد کو صرف اچھا انسان نہیں، بلکہ ذمہ دار، فعال اور معاشرے کا مفید شہری بنائیں گے۔ انہیں ذمہ داری سکھا کر زندگی کے اصل امتحان کے لیے تیار کریں۔ تربیت اولاد, والدین کی ذمہ داری, معذور نسل, Responsible Parenting, Generation Gap, Mobile Addiction, اولاد, ڈاکٹر آصف علی خان, Youth Challenges, Ghar ki Zimmedari

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !