یہ
2014 کی بات ہے۔ ایک ایسی کہانی جس نے یوٹیوب اور اخبارات کی شہ سرخیوں میں جگہ
بنائی، اور آج بھی ہمارے دلوں میں زندہ ہے۔
تصور کریں ایک ویران سی رات، الاباما کے ایک پولیس اسٹیشن میں ایک فون کی گھنٹی بجتی ہے۔ ایک سپر مارکیٹ کا مینیجر بتا رہا ہے کہ اس نے
ایک خاتون کو چوری کرتے ہوئے
پکڑا ہے۔ یہ خبر سنتے ہی ایک پولیس افسر جائے وقوعہ کی طرف روانہ ہوتا ہے۔
جب
وہ وہاں پہنچتا ہے، تو اسے پتہ چلتا ہے کہ اس خاتون نے صرف پانچ انڈے چرائے ہیں۔
تھوڑی ہچکچاہٹ کے بعد، افسر پوچھتا ہے کہ ایسا کیوں کیا۔ خاتون کی آنکھوں میں آنسو
اور آواز میں لرزش تھی، "میرے بچوں اور میں نے دو دن سے کچھ نہیں کھایا تھا۔
میں مجبور تھی۔"
اس لمحے، افسر نے قانون کے بجائے اپنے دل کی سنی۔ اس نے خاتون کو گرفتار کرنے کے بجائے، اس کے لیے انڈوں کی پوری ٹوکری خریدی اور اسے گھر چھوڑنے چلا گیا۔ یہ ایک چھوٹا سا عمل تھا، مگر اس میں انسانیت کا بہت بڑا پیغام چھپا تھا۔
دو
دن بعد، وہی پولیس افسر اپنے ایک ساتھی کے ساتھ اس خاتون کے گھر کے سامنے دو
گاڑیوں کے ساتھ آیا۔ گاڑیاں کھانے پینے کے سامان سے بھری ہوئی تھیں۔ یہ سب اس افسر
کی محنت کا نتیجہ تھا، جس نے اپنی کمیونٹی میں اس خاتون کے لیے عطیات جمع کیے تھے۔
جب خاتون نے یہ سب دیکھا، تو اس کی آنکھوں میں جذبات کی چمک تھی اور زبان پر صرف یہی جملہ تھا، "آپ کو میرے لیے یہ سب کرنے کی
ضرورت نہیں تھی۔"
افسر
نے مسکرا کر جواب دیا، "بعض اوقات ہمیں قانون سے زیادہ انسانیت کی ضرورت ہوتی
ہے۔"
یہ
کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ قانون کو عمل میں لانے سے پہلے انسانیت کو سمجھنا کتنا
ضروری ہے۔ سقراط نے کہا تھا، "انسانیت ایک
ایسا درجہ ہے جس تک کچھ لوگ پہنچ جاتے ہیں اور کچھ اس تک پہنچے بغیر ہی مر جاتے
ہیں۔"
یہ کہانی صرف ایک واقعہ نہیں، بلکہ ایک سبق ہے۔ آپ کے خیال میں اس پولیس افسر نے صحیح فیصلہ کیا؟



