منافقت کی دلدل اور خودغرضی کی دیوار: ذرا آسمان کی طرف دیکھو!
کیا آپ نے کبھی ایسے لوگوں کو دیکھا ہے جو اعلیٰ اخلاق کا لبادہ اوڑھ کر کھڑے ہوں، مگر اندر سے ان کی روح سازشوں اور مکروفریب سے بھری ہو؟ وہ جو منہ پر مکر جاتے ہیں، جھوٹ کو اتنی بلند آواز میں بولتے ہیں کہ سچ بھی دب کر رہ جائے؟
وہ جو کسی کو نیچا دکھانے کے لیے ہر حد سے گزر جاتے ہیں، جو اپنے عیبوں کو چھپا کر کسی اور کے سر ڈالتے ہیں اور اسے سرِعام رسوا کرتے ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ وہ کامیاب ہو رہے ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ وہ اس دلچسپ کھیل کے ماسٹر ہیں جہاں ضمیر صرف ایک غیر ضروری بوجھ ہے۔
یاد رکھو! یہ تمہاری ذاتی سلطنت نہیں، اور یہ کھیل ہمیشہ جاری نہیں رہے گا۔
ذرا آسمان کی طرف دیکھو! وہ جو دیکھ رہا ہے...
جس چھاؤں میں تم یہ سب کر رہے ہو، وہ آسمان والا تمہارے ہر عمل کو دیکھ رہا ہے۔ تم شاید لوگوں کی نظروں سے بچ جاؤ، شاید دنیا کو دھوکہ دے جاؤ، لیکن اس ذات کی نظر سے بچنا ناممکن ہے۔
وہ "القہار" ہے! وہ جس کی گرفت سے کوئی بھاگ نہیں سکتا۔ اور سن لو، وہ بھولنے والا بھی نہیں ہے۔ اس کی نظر سب سے باریک ہے؛ وہ تمہاری ہر چال، ہر سازش، ہر دغا کو دیکھ رہا ہے!
"کیا وہ نہیں جانتے کہ اللہ ان کے پوشیدہ کو اور ان کی سرگوشیوں کو جانتا ہے اور یہ کہ اللہ غیب کی تمام باتوں سے واقف ہے؟" (القرآن 9:78)
جہنم کی آگ اور ضمیر کا سودا
کیا تمہیں اس بات کا احساس بھی ہے کہ تم کس چیز کا سودا کر رہے ہو؟
کسی کو اتنا ہی ستاؤ، کسی کے ساتھ اتنا ہی ظلم کرو، جتنی جہنم کی آگ تم برداشت کر سکو! وہ آگ جو چربی تک کو پگھلا دے گی، جس کی تپش سے دماغ کی کھوپڑی پھٹ جائے گی۔ کیا تمہاری یہ عزتِ نفس، یہ جھوٹی فتح، اس درد کے مقابلے میں کچھ معنی رکھتی ہے؟
اور اگر تمہیں جہنم کی آگ کا بھی ڈر نہیں رہا، اگر تم اللہ کے معصوم بندوں کے لیے زمین تنگ کرتے وقت اللہ سے بھی حیا نہیں کرتے... تو ایک دوسرا اصول یاد رکھو:
اللہ کی زمین تنگ ہو جاتی ہے!
خودغرض، ظالم، جھوٹے، منافق، اور حق دبانے والے لوگوں کے لیے اللہ اپنی زمین اور اس کے وسائل کو تنگ کر دیتا ہے۔
تم دیکھو گے کہ تمہارے پاس اختیار ہوگا، دولت ہوگی، مگر تم بے بس ہو جاؤ گے۔ تم کچھ نہیں کر پاؤ گے! تمہاری چالیں تم ہی پر الٹ جائیں گی۔ یہ ذلت تمہارا مقدر بن جائے گی اور تم اسی ذلت کے ساتھ اس دنیا سے رخصت ہو گے۔ یہ "مکافاتِ عمل" ہے۔
"اور جو کوئی اللہ کا تقویٰ اختیار کرتا ہے، اللہ اس کے لیے (مشکلات سے) نکلنے کا راستہ بنا دیتا ہے، اور اسے وہاں سے رزق دیتا ہے جہاں سے اسے گمان بھی نہیں ہوتا۔" (القرآن 65:2-3)
یہاں سے سبق لو! جو لوگ تقویٰ اختیار کرتے ہیں، اللہ ان کے لیے راہیں کھول دیتا ہے، اور جو اس کے بندوں پر ظلم کرتے ہیں، ان پر زمین تنگ کر دی جاتی ہے۔
لوگوں کی آہوں سے ڈرو!
کسی کی آہوں سے ڈریں! ان کے صبر کی برداشت سے ڈریں۔ یہ مت سوچیں کہ وہ کمزور ہیں۔
سب سے زیادہ اس بات سے ڈرو کہ تمہاری وجہ سے کوئی شخص اللہ کے سامنے رو پڑے اور ہاتھ اٹھا دے۔ تمہیں شاید کوئی فرق نہ پڑے، مگر کچھ لوگ اللہ کے لاڈلے ہوتے ہیں، اور اللہ انہیں تنگ کرنے والوں کو کبھی نہیں چھوڑتا۔ وہ بدلہ ضرور لیتا ہے۔
یاد رکھیں! دنیا ایک آزمائش ہے۔ آپ کا کردار، آپ کا ضمیر، آپ کی نیت، سب کچھ ریکارڈ ہو رہا ہے۔ آج ہی اپنی راہ بدل لو!

