اپنے آپ کو معاف کر دیں…


اُس وقت کے لیے جب آپ نے "ہاں" کہا جب دل اندر سے "نہیں" چِلّا رہا تھا، لیکن زبان پر خاموشی تھی۔


اُن لمحوں کے لیے جب آپ نے "نہیں" کہا، جب ہاں کہنا ضروری تھا 

صرف اس لیے کہ ڈر تھا، وسوسہ تھا، یا خود پر یقین نہیں تھا۔


اُن دنوں کے لیے جب آپ چلتے رہے جبکہ اندر سے دل کہ رہا تھا کہ "رُک جاؤ!"


اور اُن لمحوں کے لیے بھی جب آپ تھک کر بیٹھ گئے جبکہ وقت تھا کہ ہمت پکڑتے اور آگے بڑھتے۔


معاف کر دیں خود کو ، اُس شک کے لیے جو آپ کو فائنل لائن عبور کرنے سے روکتا رہا، اُس خوف کے لیے جو شروعات ہی نہیں کرنے دیتا تھا۔


ان رشتوں کے لیے جو ختم ہو چکے تھے لیکن آپ نے زبردستی زندہ رکھنے کی کوشش کی، کیونکہ چھوڑنا آپ کو آتا ہی نہیں تھا۔


اُن خوابوں کے لیے جنہیں آپ نے وقت سے پہلے دفنا دیا کیونکہ آپ کو لگا کہ شاید آپ ان کے قابل نہیں۔


اُن سچائیوں کے لیے جنہیں آپ اُس وقت جان ہی نہیں سکے، اُن راہوں کے لیے جو نظر نہ آ سکیں، اُن فیصلوں کے لیے جن کے انجام کا علم ہی نہیں تھا، اُن تبدیلیوں کے لیے جو آپ کے اختیار سے باہر تھیں۔


اور اپنے دل و دماغ کے لیے جو اُس وقت بہتر فیصلہ کرنے کے لیے تیار نہیں تھے۔


کیوں؟

کیونکہ آپ انسان تھے اور انسان وقت کے ساتھ سیکھتا ہے اور وقت کے ساتھ سنبھلتا ہے۔


تو پھر کیوں آج بھی اپنے ہی ماضی کو مجرم بنا کر زندہ رکھتے ہیں؟

کیوں ہر دن، پرانی غلطیوں کا کفارہ ادا کرتے ہیں؟

کیوں خود کو سزا دیتے ہیں اُن باتوں پر جن کا مقصد سبق تھا، زندگی ختم کرنا نہیں؟


اب بس کریں۔ اپنے آپ کو معاف کر دیں۔


کیونکہ جو آپ اُس وقت تھے وہی سب کچھ تھا جو آپ جانتے تھے۔

اور جو آپ آج ہیں وہی ثبوت ہے کہ آپ نے اُس وقت بھی ہار نہیں مانی تھی۔


یا اللہ جیسے تُو پردے ڈال دیتا ہے ہمارے گناہوں پر،

ویسے ہی ہمیں اپنے ماضی کی تلخیوں پر پردہ ڈالنا سکھا دے۔

جیسے تُو معاف کرتا ہے ہمیں،

ہمیں بھی خود کو معاف کرنا سکھا دے…

اُن لمحوں کے لیے جن میں ہم کمزور تھے،

اُن فیصلوں کے لیے جن میں ہم نادان تھے،

اور اُن راستوں کے لیے جو تیرے علم میں بہتر نہ تھے مگر ہم سمجھ نہ سکے۔

آمین ثم آمین یا رب العالمین۔

#sarbastahayat   بشکریہ : سربستہِ  حیات     ا