جب جاپان اور جرمنی سے لوگ انجینئرز بننے پاکستان آتے تھے !
پاکستان کی صنعتی تاریخ میں کچھ ایسے نام بھی ہیں جو اگرچہ آج کتابوں میں گم ہو چکے ہیں، مگر ان کا کردار ناقابلِ فراموش ہے۔ انہی میں سے ایک روشن نام محمد لطیف کا ہے، جنہوں نے مشرقی پنجاب کے ایک چھوٹے سے شہر بٹالہ میں 1907ء میں آنکھ کھولی۔ بچپن سے ہی علم اور محنت کے دلدادہ تھے، یہاں تک کہ 1930ء میں مکینیکل انجینئرنگ کی اعلیٰ تعلیم مکمل کی۔
محض دو سال بعد، 1932ء میں اپنے شہر کے نام سے منسوب ایک ادارے — بٹالہ انجینئرنگ کمپنی (BECO) — کی بنیاد رکھی۔ کاروبار جم گیا، پہیہ چل پڑا، لیکن جب 1947ء میں تقسیم کا زخم لگا، تو محمد لطیف نے اپنا سب کچھ بھارت میں چھوڑ کر صرف پاکستان سے محبت کی خاطر لاہور کا رخ کیا۔ نہ مشینیں ساتھ آئیں، نہ وسائل — صرف حوصلہ، جذبہ اور ہنر ان کے پاس تھا۔
دسمبر 1947ء میں لاہور کے بادامی باغ سے نئے سفر کا آغاز ہوا۔ دن رات کی محنت کے بعد تین برسوں میں BECO نے انجینئرنگ کے کئی شعبوں میں قدم جما لیے۔ فیکٹری میں آٹھ مختلف شعبے قائم ہوئے، جن میں لوہے اور اسٹیل کی تیاری، ڈیزل انجنز، الیکٹرک موٹرز، کرینیں، پاور لومز، اور یہاں تک کہ سائیکلیں بھی تیار ہوتی تھیں۔
1960ء اور 70ء کی دہائی میں BECO پاکستان کا فخر اور عالمی سطح پر تسلیم شدہ ادارہ بن چکا تھا۔ چین، جاپان، شام اور جرمنی جیسے ملکوں کے سربراہان اور ماہرین BECO کے دورے پر آتے، اور اپنے انجینئرز کو تربیت کے لیے یہاں بھیجتے۔ چین کے وزیر اعظم چو این لائی نے تو یہاں تک کہا کہ وہ چین میں اسی طرز پر ادارے قائم کریں گے — اور کیے بھی۔
لیکن پھر وہ دن آیا جس نے پاکستان کی صنعت کو دہلا دیا۔ یکم جنوری 1972ء کو اُس وقت کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے معاشی اصلاحات کے نام پر BECO سمیت 31 بڑے اداروں کو قومی تحویل میں لے لیا۔ برسوں کی محنت سے بنایا گیا ادارہ ایک حکم سے چھین لیا گیا، اور محمد لطیف کو ان کے اپنے ادارے سے الگ کر دیا گیا۔
ادارے کا نام بدل کر پاکستان انجینئرنگ کمپنی (PECO) رکھ دیا گیا، اور اس کی باگ ڈور ان لوگوں کو دی گئی جنہیں صنعت و حرفت کا کوئی تجربہ نہ تھا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ جو ادارہ کبھی منافع میں تھا، وہ ہر سال قومی خزانے پر بوجھ بننے لگا۔ 1972ء سے 1998ء تک ادارے کو 760 ارب روپے سے زائد کا نقصان ہوا۔
بعد میں جنرل ضیاء الحق نے محمد لطیف کو فیکٹری واپس لینے کی پیشکش کی، لیکن وہ دل شکستہ ہو چکے تھے۔ وہ خاموشی سے پاکستان سے رخصت ہو کر جرمنی چلے گئے، جہاں انہوں نے باقی زندگی کاروبار سے دور رہ کر باغبانی میں گزار دی۔
2004ء میں 97 برس کی عمر میں وہ جرمنی ہی میں وفات پا گئے۔ وہی وطن، جس کی محبت میں انہوں نے سب کچھ قربان کیا، آخر میں ان کے دل کا زخم بن گیا۔
ایسے لوگ قوموں کے ماتھے کا جھومر ہوتے ہیں، مگر بدقسمتی سے ہم اپنے ہنرمندوں اور محبِ وطن سپوتوں کو پہچاننے سے قاصر ہیں۔ ہم نے ایک ہیرے کو کھو دیا، اور نجانے کتنے اور قیمتی ہیرے ابھی بھی ضائع ہونے کو ہیں۔
اللّٰہ ہمیں اپنے اصل اثاثے پہچاننے اور ان کی قدر کرنے کی توفیق دے۔ آمین۔
#beco #engeenering #pakistan #india #MuhammadLatif

