کچھ روز قبل مجھے ایک کام کے سلسلے میں اپنے علاقے (لندن) سے کچھ فاصلے پر جانا پڑا۔ گاڑی ایک جگہ پارک کی اور تقریباً پانچ منٹ پیدل چلنا پڑا۔ دونوں طرف کئی
دکانیں تھیں، جو رات ہونے کے سبب بند ہو چکی تھیں۔
چلتے چلتے نظر ایک بڑی گوشت کی دکان پر پڑی، جو نہ صرف ریٹیل میں بلکہ ہول سیل میں بھی خاصی سرگرم دکھائی دیتی تھی۔ دکان کے باہر لگا بینر پڑھتے ہوئے نگاہ جب نیچے گئی تو حیرت کی انتہا نہ رہی بینر کے ایک کونے میں بڑا سا "حلال" لکھا ہوا تھا، اور دوسرے کونے میں خنزیر (pig) کی تصویر نمایاں تھی۔
سب سے پہلے تو غصہ آیا اس شخص پر، یعنی دکان کے مالک پر، کہ زیادہ کمائی کے چکر میں اس نے خنزیر تک کو حلال کے بینر کے نیچے لا کھڑا کیا! اور دوسری طرف افسوس ان لوگوں پر ہوا، جو بغیر تحقیق کیے دھڑا دھڑ ایسی دکانوں سے گوشت خریدتے ہیں، یہ سمجھ کر کہ سب کچھ حلال ہی ہوگا کیونکہ بینر پر بڑا سا حلال لکھا ہوا ہے۔
ایک لمحے کو اگر مان بھی لیا جائے کہ اس دکان میں حلال گوشت موجود ہے، تو کیا حلال بکرے یا مرغی کے گوشت کے ساتھ اگر حرام خنزیر کا گوشت بھی رکھا ہو تو ایک کلمہ گو مسلمان وہاں سے گوشت خریدے گا؟
میں آپ کو ایک ذاتی تجربہ بھی بتاتا ہوں میری کئی مرتبہ بحث ایسے بھائیوں سے ہوئی، جو پاکستان یا انڈیا جیسے ممالک سے آتے ہیں اور اچھے گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ لیکن یہاں یو کے آ کر نہ جانے کن رنگوں میں رنگ جاتے ہیں کہ حرام چیزوں کو اختیار کرنا، اور پھر اس پر صفائیاں پیش کرنا، معمول بن جاتا ہے۔
بہت سے لوگ، جو McDonald's یا KFC جیسے اداروں سے بیف برگر یا چکن برگر کھاتے ہیں، جب ان سے کہا جائے کہ یہ حلال نہیں ہیں، تو وہ جواب دیتے ہیں:
"جانور تو حلال ہے نا؟ مرغی اور گائے کھا سکتے ہیں!"
کیا ہی کہنے ان کی سادگی کے! کیا ان کو یہ معلوم نہیں کہ اگر حلال جانور بھی مردار ہو جائے، یا اس پر تکبیر نہ پڑھی گئی ہو، تو وہ حرام ہو جاتا ہے؟
(البتہ یہ بات واضح رہے کہ ہمارا مذہب یہ اجازت دیتا ہے کہ اگر انسان ایسی مجبوری یا ہنگامی حالت میں ہو جہاں جان جانے کا خطرہ ہو، اور کوئی حلال غذا موجود نہ ہو جیسے بھوک سے مرنے لگے، کوئی ایسی بیماری ہو کہ بغیر خوراک کے جان بچنا ممکن نہ ہو تو اس وقت صرف جان بچانے کے لیے تھوڑی مقدار میں حرام گوشت کھانے کی اجازت ہے۔ لیکن یہ اجازت صرف سخت مجبوری، جان لیوا حالت، یا قید و بند جیسی کیفیت میں دی گئی ہے، سہولت یا خواہش کے لیے نہیں۔)
استغفراللہ! بعض لوگوں کو تو حرام جانور کا گوشت یہ کہہ کر کھاتے دیکھا ہے کہ "بسم اللہ پڑھ لو، سب کچھ جائز ہے!"
اس میں کوئی شک نہیں کہ ہر انسان اپنے اعمال کا خود ذمہ دار ہے، لیکن خدارا اپنی سہولت کے لیے دین کو توڑ مروڑ کر پیش نہ کیجیے۔
ہو سکتا ہے کچھ لوگ یہ کہیں کہ پاکستان میں بھی مردار یا حرام گوشت بیچ دیا جاتا ہے۔ اس ضمن میں عرض ہے: اگر کوئی کلمہ گو ایسا کرتا ہے، تو وہ اپنی ذات کا گناہ گار ہے، وہ اس کا جواب دے خود ہے لیکن اگر آپ میں سے کسی کو یہ علم ہو جائے کہ فلاں شخص 100 فیصد حرام گوشت یا مردار وغیرہ بیچتا ہے، تو کیا آپ آنکھ بند کر کے وہاں سے گوشت لیں گے؟ یقینًا نہیں!
بات صرف اتنی سی ہے:
دنیا کے تمام غیر مسلم ممالک میں حلال گوشت محنت، تحقیق اور تصدیق سے مل جاتا ہے۔
اور اگر بفرض محال آپ کو کہیں بھی حلال گوشت وقتی طور پر نہ ملے، تو کیا اللہ تعالیٰ کی دیگر تمام نعمتیں ختم ہو چکی ہیں؟ کیا وہ نعمتیں آپ کا پیٹ نہیں بھر سکتیں؟
بحیثیت انسان، ہم سب سے بہت سے گناہ اور غلطیاں سرزد ہوتی ہیں لیکن جان بوجھ کر آنکھیں بند کر کے گناہ کے راستے کو اختیار کرنا… اس کے ہم جوابدہ ہوں گے بروزِ آخرت۔
تحریر کے اختتام پر صرف یہی عرض ہے:
اس پوسٹ کا مقصد نہ کسی کی دل آزاری ہے اور نہ ہی کسی کو بے نقاب کرنا، لیکن بحیثیت مسلمان میں نے یہ اپنا فرض سمجھا کہ ایسے معاملات کو اجاگر ضرور کیا جائے خاص طور پر جب آپ کسی غیر مسلم ملک میں مقیم ہوں۔
بہت سے لوگ حلال اور حرام کی بحث کو طول دیتے ہیں، لیکن میری ناقص رائے میں ہمارے مذہب میں جب کسی چیز کو حرام قرار دے دیا جائے تو وہ بس حرام ہوتی ہے۔ "چھوٹا حرام" یا "بڑا حرام" کا کوئی تصور نہیں۔
جسے اختلاف ہو، وہ ضرور اپنا مؤقف پیش کرے لیکن دلیل اور تمیز کے دائرے میں۔
اگر ایسی کوئی پوسٹ اچھی لگے تو صدقہ جاریہ کے طور پر شیئر ضرور کیجیے۔
اللہ تعالیٰ، اپنے پیارے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صدقے، ہم سب کو حلال اور حرام کی تمیز کے ساتھ زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
دعا کا طالب
محمد عظیم: منقول
لندن
